ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امراوتی کو آندھرا کی دارالحکومت بناکر چندرابابو نے کیا بڑا گھوٹالہ: جگن موہن ریڈی

امراوتی کو آندھرا کی دارالحکومت بناکر چندرابابو نے کیا بڑا گھوٹالہ: جگن موہن ریڈی

Sun, 03 Mar 2019 11:42:10    S.O. News Service

نئی دہلی، 3 ؍مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امراوتی کو آندھرا پردیش کی دارالحکومت بنانے میں بڑا گھوٹالہ کیا گیا ہے اور یہ کیا ہے چندرا بابو نائیڈو نے ۔یہ الزام لگائے ہیں وائی ایس آر کانگریس کے لیڈر جگنموہن ریڈی نے۔ریڈی سے سوال پوچھا گیا کہ اگر آپ سی ایم بنتے ہیں تو کیا آندھرا پردیش کی دارالحکومت کو امراوتی ہی رہنے دیں گے یا اس کو تبدیل کر دیں گے؟۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جگن موہن نے تفصیل سے بتایا کہ امراوتی کو دارالحکومت قرار دینے کے پیچھے کس طرح کا گھوٹالہ کیا گیا ہے۔ریڈی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو کی کمپنی نے یہاں پر کسانوں سے اونے پونے دام پر پہلے زمین خریدی۔جب زمین خریدی گئی تب وہاں کے کسان اس بات سے لاعلم تھے کہ امراوتی کو دارالحکومت بھی قرار دیا جا سکتا ہے، دارالحکومت قرار ہونے کے بعد لینڈ پول کے ذریعے وہ زمین لے لی گئی،پھر اسے مختلف لوگوں کو اونچے داموں فروخت کیا گیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک نے دیکھا ہے کہ کس طرح تلنگانہ کے 22 ممبران اسمبلی کو پیسہ دیا گیا۔اس کے آڈیو اور ویڈیو ٹیپ بھی ہیں لیکن کسی پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔جگن موہن ریڈی نے طنز کستے ہوئے کہا کہ 6 مہینے پہلے کانگریس نے ایک دستی جاری کی تھی جس پر راہل گاندھی کی تصویر تھی۔اس میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو کو سب سے بدعنوان وزیر اعلی بتایا گیا،ان کوایک بدعنوان انکشاف کیا گیا تھا لیکن اس کے 3 ماہ بعد ہی کانگریس نے تیلگودیشم سے سمجھوتہ کر لیا۔جگن موہن نے کانگریس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کانگریس 30 سال تک تیلگودیشم کے خلاف لڑی ہے اور آج اسی سے ہاتھ ملا لیا،اس کا عوام میں کیسا پیغام جائے گا۔

کانگریس کے ساتھ جائیں گے یا نہیں؟ اس سوال پر جگن موہن نے کہا کہ ہم راہل گاندھی کے خلاف نہیں ہیں لیکن ہم کسی پر یقین نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ ہم پہلے ہی پانچ سال کھو چکے ہیں۔آندھرا پردیش میں کانگریس ختم ہو چکی ہے،کانگریس کو ہماری ضرورت ہے ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے۔کانگریس کو خود پر یقین نہیں ہے، نہیں تو جس پارٹی نے 30 سال تک ٹی ڈی پی کے خلاف لڑا اس پارٹی سے اتحاد کرنے کا کیا جواز تھا۔جگن موہن نے کہا کہ جو آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دے گا ان کی پارٹی اس کی ہی حمایت کرے گی چاہے وہ کوئی بھی ہو۔


Share: